Difficulty in reading Urdu text?

If it is difficult to read Urdu text or you preferably wish to read in "Nastaleeq" please click here to download and install Urdu font. If you want to type in Urdu as well please follow the instructions given on this website.

Sunday, May 1, 2011

یومِ مئی

رفیع اللہ
میں بھی اپنے کروڑوں ہم وطنوں کی طرح آج یوم مئی منا رہا ہوں۔صبح صبح [1]اُٹھ کر  ابھی اخبار نہیں پڑھا مگرمجھے پورا یقین ہے کہ جناب ِصدر،وزیراعظم ، وزرائے اعلیٰ اور دیگر متعلقین اس حوالے سے اپنے بیان جاری کرچکے ہوں گے۔اس لیے مجھے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور ویسے بھی میں کوئی صدر یا وزیراعظم تھوڑا ہی ہوں جو بیان جاری کرتا کہ بیان جاری کرنا تو ان ہی کا  کام ۔گویا جس کا  کام اسی کو ساجھے۔رہامسئلہ مزدور تنظیموں کا تو ضرور وہ بھی آج اپنے قائدین کے اظہار خیا ل کے لیے جلسے جلوس منعقد کر رہی ہوں گی۔کہ بیچارے مزدور راہنماوں کو سال میں ایک دفعہ ہی تو موقعہ ملتا ہے ۔ویسے مجھے آج تک کسی مزدور راہنما سے ملنے کا اتفاق نہیں ہوا سوائے ایک کے اور اُسے دیکھ کر ایسے لگتا ہے کہ مزدوروں  پر ہو نہ ہو مزدور راہنماوں پر تو خدا بہت ہی مہربان ہے۔خوبرو،تعلیم یافتہ ،فر فر انگریزی بولتا نوجوان۔ مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ قدرت بھی جہاں ایک دفعہ مہربان ہوتی ہے کھل کر ہوتی ہے۔ آپس کی بات  ہے موصوف کی  ’’دوست دُختر‘‘ [2]کو دیکھ کر تو  میرا  بھی مزدور راہنما بننے کو بہت دل کرتا ہے۔مزدوروں کے حقوق کے لیے لڑنے والی غیر سرکاری تنظیمیں بھی آج کے دن کو منا رہی ہوں گی کہ ساراسال تو لڑنے میں گزر جاتاہے ۔یہ بیچاری تنظیمیں اس قدر شدت سے لڑتی ہیں کہ لڑتے لڑتے ان کا سارا اسلحہ  میر امطلب ہے  ’’فنڈز‘‘ ختم ہوجاتے ہیں اور ان کو سال میں کئی مرتبہ  ’’فنڈنگ پرپوزل ‘‘ کی طرف پسپائی اختیا ر کرنی پڑتی ہے۔ویسے جب سے مجھے  غیر سرکاری تنظیموں کے دُکھ درد کا پتہ چلا ہے میر ی دلی ترین  خواہش ہے کہ ایک غیر سرکاری تنظیم بناؤں لیکن مطلوبہ اہلیت [3]نہ ہونے کی وجہ سے سخت مایوس ہوں۔
خیر بات ہورہی تھی یومِ مئی منانے کی تو جدید ٹیکنالوجی کی آمد سے اب کچھ بھی منانا بہت آسان ہو گیا ہے۔اور نوجوان نسل کا نمائند ہ ہونے کی حیثیت سے میں بھی ٹیکنالوجی کا بھر پور استعمال کر تا ہوں۔اب یہ پچھلی عید میلاد کو ہی لیجیے۔’’یوٹیوب‘‘ سے نعتیں ڈھونڈ  ڈھونڈ کر ’’فیس بک ‘‘[4] پر لگا کر دونوں ہاتھوں سے ثواب لوٹا۔ایک ہفتہ پہلے اپنے موبائل فون کی  ’’کالر ٹیون ‘‘ پر نعت لگائی۔اپنے تمام جاننے والوں پر ’’ درود میسج‘‘  بھیجتا رہا بلکہ  ’’درو میسج‘‘ بھیجنا تو  اب میں نے عادت بنا لی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ احادیث  اور اقوال ِبزرگان کے میسج بھی باقاعدگی سے بھیجتا ہوں۔زیادہ کوفت اس لیے نہیں اُٹھانا پڑتی کہ میرے مہربان مجھ پر میسج بھیجتے رہتے ہیں اور مجھے تو  بس  ’’فارورڈ‘‘ ہی کرنا ہوتےہیں۔رہا سوال پیسوں کا تو  ایک ’’نجی ضرورت‘‘ کے پیشِ نظر میسج پیکج لگوایا ہوا ہے گویا ایک تیر سے دو شکار،جیسے پنجابی میں کہتے ہیں نالے حج نالے وپار[5]۔اس طرح احیائے دین اور’’ اصلاحِ دیگران ‘‘ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کو خوب استعمال کرتا ہوں۔جدید ٹیکنالوجی کے غیر مسلمان  موجدین کو خبر تک نہیں ہو گی کہ اُنھوں نے ثواب حاصل کرنا ہمارے لیے کس قدر آسان کر دیا ہے۔مجھے پورا یقین ہے کہ اگر اُنھیں اس کا ذرا سی بھی اندازہ ہوتا تو وہ ہر گز یہ سب کچھ ایجاد نہ کرتے۔
میں یوم مئی منانے کی بات کرناچاہتا ہوں لیکن بات کہیں اور چلی جاتی ہے۔بس تو میں بھی آج یومِ مئی منا رہا ہوں۔سوچتا ہوں ہم سے پہلے لوگ کیسے اجڈ تھے کسی کا کوئی دن نہیں مناتے تھے۔نہ’’مدر ڈے‘‘ نہ ’’فادر ڈے‘‘ نہ ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ وغیر ہ وغیرہ۔پھر خیال آتا ہے کہ پرانے زمانوں میں دن منانا بہت مشکل ہوتا ہوگا شاید اسی لیے وہ نہیں مناتے ہونگے۔کہ نہ تواُن بیچاروں کے پاس موبائل فون ہوتا ہوگا،نہ آئی فون،نہ  کمپیوٹر،نہ انٹر نیٹ،نہ یوٹیوب  اور نہ ہی فیس بک۔خیر پرانے لوگوں سے مجھے کیا لینا کہ میری اپنی دُنیا ہے اور اپنا وقت بس مجھے اختلاف ان دنوں کی ترتیب وتعد د سے ہے۔میرے مطابق ویلنٹائن ڈے کوسال میں صرف ایک مرتبہ منانا سر سر زیادتی ہے۔کیونکہ یہ نوجوانوں کا  دن ہے۔انھیں نوجوانوں کا جن سے ساری توقعات وابستہ ہیں۔اس لیے نوجوانوں کے مشورے سے اس کے تعدد کو بڑھانا چاہیے۔اس سلسلے میں میری رائے  ہے کہ سال  میں کم از کم ۳۶۵ دن تو ویلنٹائن ڈے کو دیے  جانے چاہییں۔اور اسی تناسب سے فادر ڈے اور مدر ڈے کا تعدد کم کیا جانا چاہیے   کیونکہ  یہ تو ویسے بھی  بوڑھوں سے متعلق ہیں۔
پھر بات کسی اور طرف مڑ گئی۔ہاں تو بس میں بھی یوم مئی  میں آپ کے ساتھ شریک ہوں۔یقیں مانیے صبح سے جتنے بھی ’’یومِ مئی میسج‘‘ مجھ پر بھیجے گئے ہیں سارے  ’’فارورڈ‘‘ کر چکا ہوں۔مزدورں کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے وہ  کمپیوٹر،انٹر نیٹ اور فیس بک استعمال نہیں کرتے۔حکومت کو چاہیے کہ ایسے انتظامات کرے کہ مزدور یہ تما م ذرائع استعمال کرسکیں اور جان سکیں کہ اُن کا دن منایا جا رہا ہے وگرنہ تو  ’’ستے بال دا منہ چمیا نہ ماں تے نیک نہ پیو تے نیک‘‘[6]۔مزدوروں کے دیگر مسائل پر بھی روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔ایک  تو بوجوہ  میرے پاس زیادہ روشنی ہے نہیں اور دوسر ا وہ مسائل بھی اتنے اہم نہیں ہیں اور تیسرا ا یک  دوست [7]بھی’’آن لائن ‘‘ ہے۔
میں تو اپنا فرض پورا کر چکا ہوں اور امید ہے کہ آپ بھی مجھ سے پیچھے نہیں رہے ہوں گے۔


[1] میری صبح دیہاتیوں کی طرح گردش ِ لیل ونہار کی ہر گز پابند نہیں ہے۔
[2] گرل فرینڈ کا فارسی ترجمہ۔
[3] سب سے اہم اہلیت تو خاتون ہونا ہے ۔دیگر میں کسی سول یا فوجی بیوروکریٹ کی بیوی یا بیٹی  ہونا وغیرہ ہیں۔
[4] کہتےہیں  دُنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتا ب یہی ہے۔
[5] یعنی حج اور بیوپار ساتھ ساتھ۔
[6] پنجابی محاورہ ہے کہ سوئے ہوئے بچے کا منہ چوما ہے نہ اُسکی ماں پر احسان ہوانہ اس کے باپ پر۔
[7] دوست کے ساتھ صنفی توصیف کا اضافہ اس لفظ کے وقار اور اپنی عزت کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔

No comments:

Post a Comment