Difficulty in reading Urdu text?

If it is difficult to read Urdu text or you preferably wish to read in "Nastaleeq" please click here to download and install Urdu font. If you want to type in Urdu as well please follow the instructions given on this website.

Monday, September 29, 2014

جمہوریت: منزل یا نشانِ منزل

جمہوریت
منزل یا نشانِ منزل
رفیع اللہ

انتخابات میں دھاندلی کے خلاف شروع ہونے والا احتجاج ایک موقعے پر حکومت کی بقا کے لیے خطرہ بن گیا تھا۔اس صورت حال نے جمہوریت کو لے کر ایک دلچسپ مکالمے کو جنم دیا ہے۔اور مکالمہ یہ ہے کہ حکومت کے خلاف احتجاج سے در اصل جمہوریت کو خطرہ ہے۔جس طرح پاکستان میں ہر وہ نظریہ اور اختراع جو ہماری روایتی مذہبی اشرافیہ کے مفادات کو زِک پہنچائے اسلام کے لیے خطرہ قراردے دی جاتی ہے۔بالکل اسی ڈَگر پر چلتے ہوئے جمہوریت کو ایک مقدس تصور کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ایک ایسا تصور جس کا تحفظ قومی زندگی کے ہر پہلو پر مقدم ہو۔اور یوں جمہوریت کے تقدس کی آڑ میں ہماری سیاسی اشرافیہ ہر طرح کے احتساب سے استثنا مانگ رہی ہے۔ایسے ماحول میں جمہوریت کی حمایت اور ارباب ِاقتدار کے احتساب کی عوامی خواہش کو باہم مقابل لا کھڑا کیا گیا ہے۔یعنی اگر آپ احتساب کا مطالبہ کریں تو جمہوریت خطرے میں پڑےگی اس لیے جمہوریت کی خاطر آپ کو حکمران طبقے کی ہر طرح کی بدیانتی و بد انتظامی سے صرف ِنظر کرنا ہوگا۔ یہ مکالمہ اُن لوگو ں کے لیے خاص طور پر ریشان کن ہے جو پاکستان کو جمہوری نظام کے اندر رہتے ہوئے ایک ترقی کرتا ہوا ملک دیکھنا چاہتے ہیں جہاں سب کو خوشحالی کے یکساں مواقع میسر ہوں۔اس لیے ضروری ہے کہ تصورِ جمہوریت کو تاریخی اور ارتقائی تناظر سمجھنے کی کوشش کی جائے ۔
جمہوریت ایک مغربی تصور ہے ۔اس کی جدید شکل نے یورپ کے مطلق العنان بادشاہوں کی رعایا میں جنم لیا ۔بادشاہوں کو ٹیکس لگانے ،قانون بنانے ، بغیر کسی الزام کے گرفتار کرنے اور مقدمہ چلائے بغیر سزائیں دینے جیسے خدائی اختیارات حاصل تھے۔بادشاہ زمین پر کسی کو جوابدہ نہیں ہوتا تھا۔یہ وہ ماحول تھا جس میں عوام نے ابتداً ٹیکس لگانے اور قانون بنانے جیسے اختیارات میں شراکت مانگی۔ شروع میں انگلستان میں بادشاہوں نے اشرافیہ (nobility)کو کسی حد تک شریک اقتدار کیا مگراشرافیہ بھی عوامی امنگوں کی ترجمانی نہ کر پائی ۔ اور یوں انگلستان کی پارلیمان دارالعوام (House of Commons )اور دارلامرا (House of Lords) میں بٹ گئی۔رفتہ رفتہ دارلعوام حقیقی عوامی نمائندہ بن کر ابھرا اور بادشاہ اور اشرافیہ سے تمام اختیارات لے لیے ۔اس نمائندہ عوامی حکمرانی نے انگلستان (بعد ازاں برطانیہکے استحکام، ترقی، اور عوامی خوشحالی کی راہ ہموار کی۔ مختصر ترین الفاظ میں یہ تھا برطانیہ کا باداشاہت سے جمہوریت کا سفر ۔اس مثال سے صاف ظاہر ہے جمہوریت کو متوسط طبقے نے رائج کیا ۔ آج اگر مغربی ممالک میں کوئی غیر جمہوری کام نہیں ہوسکتا تو اس کی سب سے بڑی وجہ وہی متوسط طبقہ ہے۔ گویا مغرب میں جہاں جمہوریت نے جنم لیا اور کافی حد تک حقیقی معنوں میں رائج ہے وہاں متوسط طبقہ جمہوریت کا محافظ ہے۔
برصغیر میں جمہوریت کو محدود شکل میں برطانوی نو آباد کاروں نے متعارف کروایا ۔جب تک متحدہ ہندوستان پر برطانیہ کا اقتدار رہا برطانیہ نے مقامی اشرافیہ سے مل کر حکومت کی ۔برطانیہ سےآزادی کے بعد اقتدارقدرتی طور پر اشرافیہ کے ہاتھ لگا ۔اب سوال یہ ہے کہ کیا اقتدار کبھی اشرافیہ کے ہاتھوں سے نکل کرعوامی نمائندوں کو ملا ؟ کیا ہماری موجودہ سیاسی قیادت حقیقی عوامی نمائندوں پر مشتمل ہے؟ کیا ہمارے نظام میں عوامی امنگوں کی ترجمانی کرنے کی صلاحیت اور عزم ہے ؟ کیا عوام جمہوریت کے لیے ہیں یا جمہوریت عوام کے لیے ؟ کیا جمہوریت ایک مقدس خدائی فلسفے یا عقیدے کا نام ہے؟ کیا ایسی جمہوریت جس کو بھر پور عوامی حمایت حاصل ہو خطرے میں ہوسکتی ہے؟ کیا ہمارے جمہوری نظام میں اصلاح و ارتقاکی گنجائش و صلاحیت ہے ؟کیا ہماری روایتی سیاسی قیادت بہتر مستقبل کی خواہشمند نوجوان نسل کی بڑھتی ہوئی بے صبری سے آگاہ ہے؟ کیا ہمارے موجودہ نظام کو ہمارے پڑھے لکھے متوسط طبقے کا اعتماد حاصل ہے ؟اور سب سے بڑھ کر کیا "ریاست ماں کے جیسی ہے "؟ ہماری سیاسی جدو جہد کا مقصود کیا ہے ؟ کیا جمہوریت منزل ہے نشانِ منزل؟
یہ وہ سب سوال ہیں جو موجودہ ماحول کے تناظر میں نہایت اہم ہیں۔میری اپنی رائے میں جمہوریت کو ایک مجرد ، مقدس اور ارفع نظریے کے طور پر پیش کرنا نہایت خطرناک ہے۔ جمہوریت ایک خامیوں سے بھر پور مگر دستیاب سیاسی نظاموں میں سب سے بہتریں ذریعہ ہے عوامی نمائندگی کے ذریعے عوام الناس کی خوشحالی کا مقصد حاصل کرنے کا۔جمہوریت کو مقتدر اشرافیہ کے اقتدار اور مفادات کی خاطر استعمال کرنا بدقسمتی ہے۔جمہوریت کی بہترین حفاظت عوامی اعتماد و حمایت ہے ۔جب تک جمہوری نظام کو مقبول عوامی حمایت حاصل نہیں ہوگی یہ محفوظ نہیں ہوسکتا ۔ ہماری سیاسی اشرافیہ آج شاید جوڑ توڑ اور روایتی چالاکیوں سے اپنے اقتدار کو بچا لے مگر جمہوریت کسی طرح محفوظ نہیں ہوگی۔ اسے ہمیشہ خطرہ لاحق رہے گا اور آج نہیں تو کل اس طاقتور گروہ سے دوسرا زیادہ طاقتور گروہ حکومت چھین لے گا۔سوال یہ ہے اگر ایسا ہوا تو کیا عوام اس جمہوری نظام کی حفاظت کو آئیں گے؟

Saturday, January 5, 2013

Status Quo, Anarchy & Adventurism or A new Pakistan

What the nation is going to choose?


Ali Taj



Today, our country in deep trouble is facing two major threats which will further deepen miseries of its citizens. First, imposition of dynastic rule in disguise of democracy: The status quo which includes PML (N) and PPP and its allies, has formally launched their heirs as future masters of the country. Mr Bilawal Zardari from camp of Pakistan People’s Party and Miss Maryam Nawaz & Mr Shahbaz Shareef from PML(N) are worth mentioning. The former has been given chairmanship of previously largest party in the country, despite the fact that he has not served even a single day as common worker. Later are so far, among top flag bearers of their parent’s party, but we can easily predict that they are being prepared to give them full charge of PML(N) in near future. If this script worked then both parties will be hostages in the hands of two families for next 5 or 6 decades, so would be the fate 190 millions of Pakistanis. Second is the threat of anarchy which could potentially derail upcoming elections, thus entire democratic process. The protests and long marches for genuine demands are a democratic right of every political party and individual. However, prominent analysts predict that as a result of Tahir ul Qadri and MQM's long march, the country might see anarchy and chaos derailing the election process leading into another adventurism by non political forces.

These factors will maintain status quo intact and bring already tested and failed rulers again and again. It will completely block every path for rise of genuine and competent leadership which can take nation out of the social, economic and political problems in a democratic way. So, if politics of dynasties and anarchy and adventurism is not averted than the very existence of state would be in danger. Keeping these two menaces in consideration and envisioning a bright future for Pakistan, we have only option in form of Imran Khan who is not only providing long term solutions to each issue faced by the country but, he is also providing solutions to fix it.

At first, he believes that change can come to Pakistan only through democratic means and by making Pakistan a true democratic state. Further, he has clearly stated that any party with a claim to make Pakistan truly democratic needs to genuinely follow democratic principles itself. The leadership of political parties needs to be elected by its workers. That is why we find intra-party elections in his party (PTI); a phenomenon in fact for the first time in history of politics of Pakistan. This has brought a paradigm shift in political culture in parties by empowering common worker to be a leader or to choose his or her leader unlike status quo which promotes dynastic rule. Secondly, he has activated Youth of Pakistan who were previously ignored by all mainstream parties and who make major chunk of vote bank. To bring them into political life of nation, he has announced at least 25% tickets for youth in upcoming general elections. It is quite contrary to the status quo parties which have asked Youth to follow their heirs and be their mureeds. Indeed, this revolutionary step of Imran Khan is very tough and challenging but it will bring out true leadership from grass root level breaking the shackles of dynastic politics for ever.


Third, he has reiterated that there is no way out other than elections to pack up the status quo. All other means would be short term and will bring same incompetent, corrupt and failed rulers by making them political martyrs and baling them out of their failures in this tenure. Additionally, he has done his homework as his party policies on terrorism, education, health, energy, governance and youth are out. And, we find education and health of masses to be the top priority sectors of Imran Khan and PTI.

So, it is up to the nation to decide on what it actually wants: same status quo, anarchy and adventurism or a new Pakistan. If it wants a new Pakistan, then it must vote- in Pakistan Tehreek e Insaf in upcoming elections rejecting status quo (PPP, Allies and PMLN) and Adventurism. Particularly, youth has to decide whether it wants to be ‘yes men’ of heirs of status quo or leaders of the nation. If they want to be the leaders then they won’t sell their conscience for the laptops, internships, medallions, festivals and helmets. They aren’t that worthless and instead they are meritorious, capable and competent enough to lead the nation.

Ali Taj is a development professional from Gilgit-Baltistan. He tweets at https://twitter.com/itajjee


Thursday, January 3, 2013

ستاروں کی رہ گزر پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔


Sunday, December 02, 2012

نوٹ : یہ مضمون روزنامہ جنگ کے سنڈے میگزین میں ۲ دسمبر ۲۰۱۲ کوشائع ہوا ہے۔ 

Sunday, December 9, 2012

بس بھائی بس

بس بھائی بس

رفیع اللہ

جولائی ۲۰۱۲ کے آخری عشرے میں پاکستانی ذرائع ابلاغ میں پانی سےگاڑی چلائے جانے کے کامیاب تجربے کی خبر شائع ہوئی۔اس خبر نے ایک طرف لوڈشیڈنگ اور گرمی کے مارے ہوئےعوام کو چونکا دیا تو دوسری   طرف سنجیدہ سائنسی حلقوں کو حیران کر دیا۔ وفاقی وزرا نے موجد کی داد و تحسین کے ساتھ ساتھ سرپرستی کے  وعدے کیے۔ٹی وی کے میزبانوں نے بھی موجد اور ایجاد دونوں کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اس نادر ایجاد کے موجد 
آغا وقار اور دیگر مقبول سائنسدان سیاسی مباحثوں  کے لیے مشہور پروگراموں میں مدعو ہونے لگے۔
ابتدائی   پروگراموں میں سے ہی کسی ایک میں ڈاکٹر عطا الرحمان نےکہا کہ پانی سے گاڑی چلانا بنیادی سائنسی اصولوں کی روشنی میں ممکن نہیں ہے اور یہ ایک قومی سطح کا دھوکہ ہے ۔مگر اُسی پروگرام میں پی سی ایس آئی آر کے چیئرمین ڈاکٹر شوکت پرویز اور ڈاکٹر قدیر بھی شریک تھے۔اور ان دونوں صاحبان نے ڈاکٹر عطاالرحمان کے برعکس آغا وقار اور اس کی ایجادکو درست قرار دیا۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند پہلے ہی  اسے درست قرار دے چکے تھے۔اگرچہ بعد میں قدرے مبہم انداز میں وہ اپنے سابقہ موقف اور آغا وقار کی حمایت سے دستبردار ہوتےنظر آئے ۔
 ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے ڈاکٹر عطا الرحمان سے اتفاق کرتے ہوئے اس ایجاد کو بنیادی سائنسی اصولوں  کے خلاف اور فریب قرار دیا۔حتیٰ کہ ایک ٹی وی پروگرام میں آغا وقار نے ڈاکٹر پرویز ہودبھائی اور ڈاکٹر شوکت حمید کو، میکس پلانک کے نظریات،ہاروڈ یونیورسٹی کے نوٹس اور کوائنٹم انقلاب کی مدد سے، کوائنٹم سٹیٹسٹیکل میکینکس پڑھانے کی بھی کوشش کی مگر یہ حضرات قائل ہوتے نظر نہیں آئے۔ٹی وی میزبانوں نے اس پر کچھ دن مزید جگالی کی اور پھر یہ موضوع موضوع نہ رہا۔مگر الجھنوں میں الجھی قوم کے ذہن میں ایک اور الجھن، ایک اور سازشی نظریہ چھوڑ گیا۔
اب حال ہی میں ۷ دسمبر کو یہ مسئلہ دوبارہ ایک ٹی وی شو کا موضوع بنا۔ اس پروگرام میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ ڈاکٹر عطاالرحمان پروگرام میں دعوت کے باوجود تشریف نہیں لائے کیونکہ شاید اُن کا نقطہ نظر کافی کمزور ہے۔مگر ایک بار پھر پانی سے چلنے والی گاڑی کا شور سنائی دے رہا ہے جو صرف پاکستان میں ہی ممکن ہے۔اس پروگرام کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے جہالت پوری قوم کا منہ چڑا رہی ہو۔
 جب ایک ایجاد کو ڈاکٹر عطا الرحمان، ڈاکٹر پرویز ہود بھائی اور ڈاکٹر شوکت حمید جیسے لوگ دھوکہ اور فریب قرار دیں اور دوسری طرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور پی سی ایس آئی آر کے چیئرمین ڈاکٹر شوکت پرویز جیسے سائنسدان درست قرار دے دیں تو پھر آغا وقار کی اپنی شخصیت اس بحث میں مرکزی نہیں رہتی۔دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی ایسی متنازعہ ایجادات سامنے آتی رہتی ہیں، ان ایجادات اور ان کے موجدین کو مقبولیت بھی ملتی ہے۔وہ ٹی وی پر بھی آتے ہیں۔ 

آغا وقار کی ایجاد سے پانچ سال پہلے دُنیائے سائنس کے معتبر ترین جریدے نیچر میں فلپ بال کا مضمون "پانی کو جلانا اور دوسری کہانیاں" شائع ہوا۔اگر آپ اس مضمون پر نظر دوڑائیں تو آپ حیران رہ جائیں گے۔ مضمون کا پہلا جملہ ہی یہ ہے کہ "کیا آپ نے پانی سے چلنے والی گاڑی کے بارے میں سنا ہے؟ اگر نہیں ....تو فکر نہ کریں یہ کہانی دوبارہ زندہ ہوگی اور پھر دوبارہ۔" اسی مضمون میں آگے چل کر مصنف ذرائع ابلاغ کے جعلی سائنس  کے متعلق جس غیر ذمہ دارانہ رویے کا رونا روتا ہے بالکل وہی رویہ ہمارے ذرائع ابلاغ کا ہے۔ پانی کو ایندھن (یا ایندھن کے ذریعے) کے طور پر استعمال کرنے کے بارے میں مصنف دو ٹوک الفاظ میں لکھتا ہے"[...] تھرموڈئنامکس کا قطعی فیصلہ ہے:پانی ایندھن نہیں ہے۔یہ کبھی ایندھن نہیں تھا، اور یہ کبھی ایندھن نہیں ہو گا۔پانی نہیں جلتا۔یہ پہلے ہی جلا ہوا ہے ۔۔یہ استعمال شدہ ایندھن ہے۔ یہ دھواں ہے۔"
 ہمیں آغا وقار کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ہمارے چند انتہائی معتبر سمجھے جانے والے مشہور و مقبول قومی سائنسدانوں کو سائنس کے بنیادی تصورات سے کیسی واقفیت ہے یہ ہمیں کبھی پتہ نہ چلتا اگر آغا وقار یہ ایجاد نہ کرتا تو۔ایک خطر ناک پہلو یہ ہے کہ  اس نام نہاد ایجاد اور اس سے متعلق دلائل نہ صرف قطعی طور پر غلط ہیں بلکہ  گمراہ کن ہیں۔اوراس کا پہلا شکار عوام الناس اور دوسرا سائنس کے ابتدائی طالب علم ہیں۔پی سی ایس آئی آر کے چیئرمین جن کا مضمون بیالوجی ہے اور ان کی تازہ ترین سی وی چودہ صفحات پر مشتمل ہے۔ان کو بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی غلطی تسلیم کرنی چاہیے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی اگر اپنے موقف پرنظر ثانی فرمائیں تو یہ ان کا قوم پر احسان ہوگا۔ جبکہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند پہلے ہی کسی حد تک ازالہ کر چکے ہیں۔
اُن اداروں کوبھی اپنا موقف واضح کرنا چاہیے جن کا نام آغا وقار وقتاََ فوقتاََ اپنی ایجاد کے تصدیق کنندگان کے طور پر لیتا رہا ہے جن میں پاکستان انجنیرنگ کونسل(بقول آغا وقار پاکستان انجنیرنگ کونسل اور اسکے سارے سائنسدان) اور پاکستان اٹامک انرجی کمیش  (بقول آغا وقار  پاکستان اٹامک انرجی اور اسکے سارے سائنسدان)سر فہرست ہیں۔
آخر میں ٹی وی میزبانوں سے: بس بھائی بس سیاسی اور سماجی اصلاح کا بیڑہ غرق کرنے پر ہی اپنی توجہ مرکوز رکھیں اور سیاسی اکھاڑوں میں جعلی سائنس کی مداری نہ لگائیں۔سیاست سے لے کر مذہب تک ہر شعبے میں ہم پہلے ہی مخمصے کا شکار ہیں تو اب کیا سائنس میں بھی تفرقہ بازی ہوگی؟

Wednesday, September 14, 2011

کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا


کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا

رفیع اللہ

جب ہمیں مرد ِبیمار کا مطلب بھی پتہ نہیں تھا    لوگ ترکی کو یورپ کا مردِبیمار کہہ رہے ہوتے تھے ۔جو تھوڑی بہت سمجھ آئی اُس کے نتیجے میں نہ مصطفیٰ کمال پسندیدہ شخصیت بنے اور نہ جدید ترکی پسندید ہ ملک۔گو مجھے آج تک وجہ معلوم نہیں مگر تُرکی کے متعلق دو باتیں سخت ناگوار گزرتیں پہلی یہ کہ ترکی ایک سیکولر ملک ہے اور دوسر ی یہ کہ ترکی یورپی یونین کی رُکنیت حاصل کرنا چاہتا ہے۔
اور پھر مئی ۲۰۱۰ میں ایک نئے ترکی سے تعارف ہوا۔جب ایک پُر امن امدای کشتی پر اسرائیلی فوج  کے حملے میں نو ترک کارکن جاں بحق ہوئے۔جس پر تُرکی کا ردِعمل ایک حقیقی طور پر آزاد اور خود مختار ملک جیسا تھا ۔اور آج مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ترکی کے وزیرِاعظم رجب طیب اردگا ن کی اذانِ سحرگونج رہی ہے۔وہی سحر جس کی نوید اسی نوے سال پہلے شاعرِمشر ق نے دی تھی،
اگر  عثمانیوں  پر   کوہِ غم   ٹوٹا  تو  کیا   غم ہے
کہ خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
            خدا کرے یہ صدا جگر سوختہ فلسطینی ماوں کے لیے  نوید سحر بھی ثابت ہو  اور طیب اردگان جس جماعت کے درمیان  صدائے تکبیر بلند کرنے گئے ہیں اُس کی آستینوں سے بت بھی گریں۔
اثر کچھ خواب کا غنچوں میں باقی ہے تو اے بلبل!
''
نوا  را  تلخ  تر  می  زن چو    ذوق   نغمہ  کم یابی''

Sunday, August 21, 2011

امید و مایوسی کے درمیان

امید و مایوسی کے درمیان
(اگست۲۰۱۱ کے موقع پر)
رفیع اللہ
پاکستان چونسٹھ بر س کا ہوگیا۔پاکستان کا ماضی بہت زیادہ روشن نہیں ہے اور حال کا حال بھی   بُرا ہے۔اگر مختصر ترین الفاظ میں بیان کیا جائے  تو کیفیت کچھ ایسی ہے۔   آج پاکستان کی گٹھری میں اخلاقی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ایک معاشرہ ہے۔اخلاقی گراوٹ کا یہ حال ہے کہ اشارہ توڑنے سے لے کر قتل تک  اور بچوں کے دودھ میں ملاوٹ سے لے کرانسانی اعضا کی چوری تک ہر قبیح جُرم ہمارے معاشرے میں پایا جاتا ہے۔عدم  بر داشت ہماری نفسیات کا جزوِ لاینفک بن چکا ہے۔ معیشت آخری سسکیاں لے رہی ہے اور بدعنوانی بام عروج پر ہے۔ملک قرضوں پر چل رہا ہے اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں پر انحصار اس قدر کہ اشیائے ضروریہ کی پرچون قیمتوں تک وہ طے کر رہے ہیں۔ زمامِ ریاست دوراندیشی سے عاری   بے کردار سیاستدانوں اور عسکریوں کے  ہاتھ میں ہے۔مخصوص جغرافیائی محلِ وقوع ، ماضی کے کرتوت اور عالمی طاقتوں کی خطے میں دلچسپی گلے کی ہڈی بنے ہوئے ہیں۔
 آبادی مختلف لسانی اورنسلی خطوط کے ساتھ بٹی ہوئی ہے۔یہ تقسیم کہیں کہیں اتنی شدت اختیار کر گئی ہے کہ لسانی یا نسلی شناخت ملکی شناخت پر فوقیت حاصل کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔بلوچستا ن میں معاشی ناانصافیوں کے ردِعمل نے نسلی تعصب کو اس قدر شدید  کردیا ہے کہ ریاست کو تقریباً تقریباً اندرونی بغاوت کا سامنا ہے۔اور فوج اپنے ہی شہریوں کے خلاف مصروفِ جنگ ہے۔درد کا درماں کرنے کی بجائے نفرتوں کے ناسور پر نمک پاشی کی جارہی ہے۔ جبکہ کراچی میں مختلف لسانی گروہ آپس میں برس پیکار ہیں ۔امن و امان کے ذمہ دار ریاستی ادارے عضو معطل بن کر رہ گئے ہیں۔
پھر نظریاتی اعتبار سے معاشرہ بُری طرح تقسیم کا شکار ہے۔ایک مخصوص طبقہ نہ صرف مذہب کا انکاری  ہے بلکہ مذہب کو ہر بُرائی اور خرابی کی ماں  سمجھتا ہے۔اس قبیل کے لوگوں کا خیال ہے کہ مذہب ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رُکاوٹ اور استحصال کا خطرناک  ترین ہتھیار ہے۔لہٰذا ایک جدید ترقی پسند ریاست کے قیام کے لیے ریاستی اُمور سے تو قطعی طورپر اور معاشرے سے کسی حد تک مذہب کو خارج کرنا ہوگا۔اس طبقے کے ہاں مذہبی لوگوں کے لیے برداشت تقریباً صفر ہے ۔مگر ایسے لوگ تعداد میں اقلیت اورعوامی مقبولیت سے محروم  ہیں۔معاشرے کی معاشی اور سماجی ساخت کے اعتبار سےاِن  میں سے بیشتر طبقہِ بالا سےتعلق رکھتے ہیں۔یہاں مذہب اور دقیانوسیت  کا ایک ہی مطلب لیا جاتا ہے۔
دوسری طرف اُن لوگوں کا اکثریتی  گروہ ہے جو مذہب سے کسی نہ کسی سطح کی وابستگی ضرور رکھتا ہے۔مذہب سے وابستگی میں شدت کے اعتبار سے یہ لوگ انتہائی متنوع ہیں۔ اس گروہ کی غیر معمولی اکثریت کو  کچھ مثتثنیات اور تحفظات کے ساتھ معتدل کہا جا سکتا ہے۔ سماجی ومعاشی اعتبار سے  زیادہ تر متوسط اور نچلے طبقات کے لوگ ہیں۔اس گروہ کا ایک معقول حصہ مذہبی نظریات میں خاصا متشدد ہے۔ان کےنزدیک ہمارے تمام مسائل کی جڑمذہب کا بطور مکمل نظام ِریاست رائج نہ ہوناہے۔ان میں سے کچھ لوگ اس مقصد کے حصول کے لیے عملی جدوجہد کے قائل ہیں۔مذہب کے بطور نظام ِریاست نفاذ  کے لیے ایک طبقہ سیاسی سطح پر کوشاں ہے جبکہ ایک دوسرا طبقہ مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان متشدد طبقات کے ہاں  آزاد خیالی تو کجا اعتدال  کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔یہاں دلیل کا گَلہ گاہے شریعت کی تلوار سے کاٹا جاتا ہے۔
افغانستان پر روسی حملے سے لیکر امریکی حملے تک ہماری یکسر مختلف حکمت ِعملیوں اورخیبر پختونخواہ میں مذہب سے قدرے شدید وابستگی کے سبب ریاست کو ایک دوسری بغاوت کا سامنا ہے ۔ یہاں بھی فوج اپنے ہی ہم وطنوں کے خلاف صف آرا ہے۔
اس تناظر میں معاشرے کو تین بڑے گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔یعنی انتہائی آزاد خیال،معتدل اور انتہائی مذہبی۔اول الذکر اور آخر الذکر دونوں  اقلیت میں ہیں جبکہ معتدل طبقہ دراصل عوام ہیں۔انتہائی مذہبی اور انتہائی آزاد خیال طبقات کے درمیان نظریاتی رسہ کشی میں عوام رسہ بنے ہوئے ہیں۔
مذہبی اکثریت کی داخلی صورت حال بھی انتہائی پتلی ہے۔مذہبی منافرت  شاید اس سے پہلے اس معاشرے میں کبھی اس قدر شدید نہیں رہی ہوگی ۔فرقہ واریت  کا سرطان پورے معاشرتی جسم میں بُری طرح پھیل چکا ہے۔منبر و محراب ،جہاں سے اصلاح کے چشمے پوٹھنے کی توقع تھی ،فساد و شر کا پرچارکرنے میں مصروف ہیں۔مذہبی اکثریت کا اقلیتوں سے سلوک بھی انتہائی متعصبانہ اور استحصال پر مبنی ہے۔ جو کوئی چند ایک مذہبی لوگ ان تمام لعنتوں سے بچ رہے ہیں وہ اپنے دامن کو چھینٹوں سے بچانے جیسی خود غرضانہ سوچ کے تحت پسِ منظر میں چلے گئے ہیں۔اورپھر جس کسی نے آواز بلند کرنے  کی کوشش کی بھی اُسے ابدی نیند سُلا دیا گیا۔
معاشی اور سماجی اعتبار سےمعاشرتی قطبیت اپنی انتہاوں کو چھور ہی ہے۔متوسط طبقہ تیزی سے انحطاط کا شکار ہے۔متوسط طبقے کی اکثریت  معاشی پستی میں گررہی ہے  جبکہ طبقہ ِبالا  بالاتر ہورہا ہے۔غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والوں کو زندگیاں بہتر بنانے کےمواقع تو دور کی بات  بے روزگاری کا اژدھامتوسط طبقے کوبھی تیزی سے نگل رہا ہے۔اور یوں معاشرتی بُرائیوں کی ماں بے روزگاری خوب پنپ رہی ہے۔تعلیمی نظام بھی طبقاتی تقسیم کی لعنت  میں لتھڑا ہوا ہے۔امرا کے لیے نجی انگریزی تعلیمی ادارے ،متوسط طبقے کے لیےسرکاری اُردو سکول اور غربا کےلیے مذہبی مدرسے ہیں۔یوں  طاقت کے دیگرمواخذ کے ساتھ ساتھ تعلیم پر بھی  مقتدر طبقے کی اجارہ داری ہے۔تعلیم اور انگریزی خوانی  کے ہتھیار  کومتوسط اور نچلے طبقات کے استحصال کے لیے نہایت چابکدستی سے استعمال کیا جارہاہے ۔
تقریباًساٹھ فیصد آبادی آج بھی کسی نہ کسی طرح زراعت سے وابستہ ہے اور دیہاتوں یا قصبوں میں رہتی ہے۔زرعی اور دیہی معاشرے میں برادری اور قبائلی نظام خاصے مضبوط ہیں جس کی وجہ سے جمہوریت کا مغربی پودا کچھ زیادہ بارآور ثابت نہیں ہوسکا۔پھراختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مقامی حکومتوں کے قیام کواقتدار پر قابض اقلیت نےممکن نہیں بننے دیا۔جس سے نہ تو وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہوسکی اور نہ ہی عوام کی جمہوری تربیت۔
                ہمارا مجموعی مزاج ایسا بن کر رہ گیاہےکہ کوئی ناکامی، داخلی یا خارجی، جب ہمارے گلے کا ہار بنتی ہے تو بجائے اسباب کھوج کر آئندہ کے لیے سبق سیکھنے کے ہم آنکھیں ملتے ہوئے اسے یہود ،ہنود اور نصاریٰ کی سازش قرار دے دیتے ہیں اور پھر کروٹ بدل کر سوجاتے ہیں۔بالکل ایسے ہی جیسے کسی بسیار نوش کے ہاتھوں اگر جام ڈھلک جائے تو اُسے یہ حضرت ناصح ہی کی شرارت لگتی ہے۔
                یہ ہیں وہ حالات جن میں پاکستان کا چونسٹھواں یوم آزادی منایا گیا۔ اور تو اور ہم تو اس بات پر بھی تقسیم ہیں کہ   اِن حالات میں کوئی امید باقی ہے یا بس مایوسی ہی مایوسی ہے۔اگر تقسیم نہیں ہیں تو مخمصے میں ضرور ہیں کہ پاکستان کا مستقبل کیا ہوگا۔کچھ  تو انتہائی غیر یقینی کا شکار ہیں اور مکمل طور پر مایوس ہیں۔جبکہ کچھ ضرورت سے زیادہ پُر اُمید ہیں اُن کا اعتقاد ہے چونکہ پاکستان ایک خدائی معجزہ ہے اس لیے اسے کبھی کچھ نہیں ہوگا۔یہاں ایک تیسرہ گروہ بھی ہے جسے مسائل کی سنجیدگی،شدت اور گہرائی کا ادراک بھی ہے اور وہ مایوس بھی نہیں ۔بلکہ کہیں خاموشی سے اور کہیں کھلے بندوں  جہاں ہیں جیسے ہیں جو کررہے ہیں کی بنیادپر عملی جدوجہد میں مصروف ہیں ۔اگرچہ یہ لوگ تعداد میں کم ہیں مگر سرنگ کے آخری سرے پر نظرآنے والی کِرن یہی گم نام سپاہی ہیں۔بس ضرورت اس اقلیت کو اکثریت میں بدلنے کی ہے۔اور بہترین شروعات اپنی ذات ہے۔

Saturday, August 6, 2011

بہ ہر سُو رقصِ بسمل بود


بہ ہر سُو  رقصِ بسمل بود
رفیع اللہ
میں سکول کے زمانے  میں اپنے ماموں کے ساتھ جنگلی کبوتروں کے شکار پر جایا کرتا تھا۔ماموں  گھات لگا کر کبوتروں کے جھُنڈ پر بارہ بور بندوق سے چار نمبر کا کارتوس چَلاتے تھے۔گولی کی آواز کے ساتھ ہی ہم بھاگ  کر جاتے اور دیکھتے کہ کتنے کبوتر گرے ہیں اور جو ہم میں سے پہلے پہنچتا  اور پہلے اندازہ لگا چکتا وہ چیخ کر کہتا ………………………………پانچ گرے ہیں……………ارے وہ دیکھو ایک اور بھی ہے  ۔بڑا ہی پُر کیف منظر ہوا کرتا تھا کسی کبوتر کو چَھرہ آنکھ میں لگا ہوتا تھا تو کسی کے پیٹ میں……………کسی کا پر ٹوٹا ہوتا تھا تو کسی  کی ٹانگ  …………… حسب توفیق ہر کبوتر پھڑ پھٹرا بھی رہا ہوتا تھا۔پورا سماں  "بہ ہر سو رقص بسمل بود" کی تصویر نظر آتا ۔
 خیرسکول کا زمانہ گزر گیا لیکن میں ابھی تک یہی سمجھتا رہا کہ شکا ر صرف جنگلوں میں  جا کرجنگلی جانوروں اور پرندوں کا کھیلا جاتا ہے۔مگر اب معلوم پڑا ہے کہ نہیں شکا ر تو شہروں میں بھی کھیلا جاتا ہے۔اور یہ شکار جنگلوں میں کھیلے جانے والے شکار سے کہیں زیادہ دلچسپ ہوتا ہے۔جنگلوں میں تو ہم کبوتروں،فاختاوں،خرگوشوں اور ہرنوں کا شکار کرتے ہیں۔لیکن شہروں میں انسان شکار کیے جاتے ہیں۔عمومی شکار تو گولی سے ہی ہوتا  لیکن باذوق شکاری گرینیڈ اور بم کا استعمال بھی کرتے ہیں۔اگر کہیں بزدل انسانوں کو شکار کرنا ہو جو کسی گھونسلے میں چھپے بیٹھے ہوں تو پھر خود کُش شکاریوں کوزحمت دینا پڑتی ہے۔اکثر اوقات تو ان مناظر کو فلمایا بھی جاتا ہے۔لہٰذا اگر آپ براہ راست کھیل میں شریک نہ بھی ہوں تو ان مناظر سے یکساں طور پر لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔
شہر کا شکار جنگل کے شکار سے کہیں مختلف ہے۔یہاں مردہ، نیم مردہ اورپھڑپھڑاتے شکار  کی براہ ِراست فلم دکھانے اورشکار شدہ انسانوں کو گننے کے لیے باقاعدہ ادارے قائم ہیں ۔ان اداروں کے لوگ جلد سے جلد شکا رکے میدان میں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔کھیل کے میدان  کی صورتِ  حال کیا ہے،کتنے لوگ شکار ہوئے ہیں وغیر ہ کی تفصیل بتانے میں وہ ایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتے ہیں۔پھر بڑی جانفشانی سےشکار ہونے  والوں کے کوائف سے لے کر موقع پر موجود تماش بینوں کے احساسات تک  کو نشر کیا جاتا ہے تاکہ دور بیٹھے تماش بین بھی پوری طرح لذّت کشید کر سکیں۔
آغاز کے دنوں میں اس کھیل میں عوامی دلچسپی دیدنی ہوتی تھی۔مگر وقت کے ساتھ ساتھ عوامی دلچسپی میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے۔مگر جس شدت سے یہ کھیل جاری ہے اُس سے محسوس ہوتا ہے کہ شاید کھیل کے منتظمیں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ عوام اُن کے کھیل میں کس قدر دلچسپی لے رہے ہیں۔خیبر پختونخواہ میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور بلوچستان میں شکار شدہ جسموں پر کندہ کاری سے اس کھیل کو دلچسپ بنانے کی پوری کوشش کی جا رہی ہے۔کراچی میں شکار کھیلنے کا انداز خیبر پختونخواہ اور بلوچستا ن سے مختلف ہے۔یہاں شکار شدہ جسموں کو بوریوں میں محفوظ کر دیا جاتا ہے۔کشمیر اور پنجاب میں یہ کھیل اُس طرح فروغ نہیں پا سکا جس کے لیے سرکاری اور عوامی ہر دو سطح پر کوششوں کی ضرورت ہے۔
شکارکے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں،شکاری مختلف ہو سکتے ہیں مگر کھیل ایک ہی ہے۔ہماری سرزمین اِس کھیل کے لیے اِس قدر موزوں ہے کہ امریکی بھی ہمارے ملک میں آکر  شکار کھیلنا پسند کرتے ہیں۔امریکیوں کے علاوہ زیادہ تر شکاری مقامی ہیں۔سرکاری تربیت یافتہ شکاریوں کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری شکاری بھی اُسی جوش وجذبے سے مصروفِ کار ہیں۔مجھے معلوم نہیں ہمارا قومی کھیل کون سا ہے مگر میری بھرپور استدعا ہے اب سے  "شکار" کو ہمارا قومی کھیل قرار دیا جاناچاہیے۔